Codex Gigas Book In Urdu _top_
یہ کتاب تیرہویں صدی کے اوائل میں (Bohemia) میں ایک بینیڈکٹائن (Benedictine) خانقاہ میں لکھی گئی تھی، جو آج کے چیک ریپبلک (Czech Republic) کا حصہ ہے۔ آج یہ شاہکار سویڈن کے شہر سٹاک ہوم کی نیشنل لائبریری (National Library of Sweden) میں موجود ہے اور اسے دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے لوگ آتے ہیں۔
یہ تقریباً 36 انچ (92 سینٹی میٹر) لمبی اور 20 انچ (50 سینٹی میٹر) چوڑائی رکھتی ہے۔
یہ کتاب صرف بائبل نہیں ہے، بلکہ یہ اپنے وقت کا ایک انسائیکلوپیڈیا ہے۔ یہ لاطینی زبان (Latin) میں لکھی گئی ہے اور اس میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں: codex gigas book in urdu
کوڈیکس گیگاس (شیطان کی بائبل): دنیا کی پراسرار ترین کتاب کی مکمل کہانی
اس کتاب میں 310 پارچمنٹ کے اوراق ہیں (کچھ صفحات صدیوں میں غائب ہو گئے)۔ اس میں لاطینی زبان میں درج ذیل چیزیں شامل ہیں: codex gigas book in urdu
اس کتاب میں موجود مخصوص جادوئی منتر کیا ہیں؟
یہ صرف ایک عام بائبل نہیں ہے۔ اس میں ایک عجیب مجموعہ شامل ہے: codex gigas book in urdu
سائنسی تجزیے کے مطابق، اگر ایک انسان روزانہ مسلسل کام کرے، تو اس طرح کی عظیم کتاب کو بغیر رکے لکھنے میں کم از کم 20 سے 30 سال کا عرصہ لگے گا۔
کہانی کے مطابق، "ہرمن دی ریکلیوز" (Herman the Recluse) نامی ایک راہب (Monk) نے خانقاہ کے قوانین کی شدید خلاف ورزی کی۔ سزا کے طور پر اسے زندہ دیوار میں چنوا دینے کا حکم ملا۔ اپنی جان بچانے کے لیے، راہب نے خانقاہ کے سربراہ سے ایک معاہدہ کیا۔ اس نے وعدہ کیا کہ وہ محض ایک رات میں ایک ایسی کتاب لکھے گا جو نہ صرف پوری دنیا کے علم کا احاطہ کرے گی بلکہ خانقاہ کو ہمیشہ کے لیے مشہور کر دے گی۔
اپنی جان بچانے کے لیے اس راہب نے ایک ناممکن وعدہ کیا: کہ وہ ایک ہی رات میں ایسی کتاب لکھ کر دے گا جس میں انسانیت کی تمام تر معلومات (knowledge) موجود ہوں گی۔ راہب نے یہ کام شروع تو کر دیا لیکن جیسے جیسے رات گہری ہوتی گئی، اسے اپنی نااہلی کا احساس ہوا۔ وہ خود کو اس عظیم کام سے عاجز پا کر ۔
جدید سائنسدانوں اور ماہرینِ خطاطی نے جب اس مسودے کا باریک بینی سے معائنہ کیا تو انہوں نے چند حیرت انگیز انکشافات کیے۔ ہینڈ رائٹنگ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ پوری کتاب میں ایک ہی شخص کا طرزِ تحریر استعمال ہوا ہے اور روشنائی کی یکسانیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی ایک ہی انسان کا کام ہے۔